تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ المؤمنون ۲۳:۱۰۴ ⧉ ” ان کے منہ بھی آگ میں ڈھکے ہوئے ہوں گے چہروں تک آگ چڑھی ہوئی ہوگی، سر سے شعلے بلند ہو رہے ہوں گے، منہ بگڑ گئے ہوں گے “۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جو ان سے نہ چھوٹیں گے حسب پر فخر، نسب میں طعنہ زنی، ستاروں سے بارش کی طلبی، میت پر نوحہ کرنے والی نے اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلی تو اسے قیامت کے دن گندھک کا کرتا اور کھجلی کا دوپٹا پہنایا جائے گا ۔ [مسند احمد:342/5:صحیح] مسلم میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:934] اور روایت میں ہے کہ وہ جنت دوزخ کے درمیان کھڑی کی جائے گی گندھک کا کرتا ہو گا اور منہ پر آگ کھیل رہی ہو گی ۔ [طبرانی کبیر:18/8-78:ضعیف] لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى النجم ۵۳:۳۱ ⧉ ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے کاموں کا بدلہ دے گا۔ بروں کی برائیاں سامنے آ جائیں گی نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے گا “۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ساری مخلوق کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ ممکن ہے یہ آیت بھی مثل اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ الانبیاء ۲۱:۱ ⧉ کے ہو یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا لیکن پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ پھیرے ہوئے ہی ہیں “۔ اور ممکن ہے کہ بندے کے حساب کے وقت کا بیان ہو۔ یعنی بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ تمام باتوں کا جاننے والا ہے اس پر ایک بات بھی پوشیدہ نہیں۔ جیسے ایک ویسے ہی ساری مخلوق۔ جیسے فرمان ہے مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ لقمان ۳۱:۲۸ ⧉ ” تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد کا زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو مارنا اور جلانا “۔یہی معنی حضرت مجاہد رحمہ اللہ کے قول کے ہیں کہ ” حساب کے احاطے میں اللہ تعالیٰ بہت جلدی کرنے والا ہے۔“ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مراد ہوں یعنی وقت حساب بھی قریب اور اللہ کو حساب میں دیر بھی نہیں۔ ادھر شروع ہوا ادھر ختم ہوا وَاللهُ اَعْلَمُ ۔