امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور اس بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں ان سے اس پر استدلال کرتے ہیں ہم نے وہ تمام احادیث فضائل سورۃ الفاتحہ⧉ کے بیان میں اپنی اس تفسیر کے اول میں لکھ دی ہیں فالْحَمْدُ لِلَّـه ۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس جگہ دو حدیثیں وارد فرمائی ہیں۔ ایک میں ہے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا جو نبی کریم ﷺ آئے مجھے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے پاس نہ آیا نماز ختم کرکے پہنچا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ اسی وقت کیوں نہ آئے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نماز میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ الانفال ۸:۲۴ ⧉ یعنی ” ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لو جب بھی وہ تمہیں پکاریں “۔ سن اب میں تجھے مسجد میں سے نکلنے سے پہلے ہی قرآن کریم کی بہت بڑی سورت بتلاؤں گا۔ تھوڑی دیر میں جب نبی کریم ﷺ تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ ﷺ کا وعدہ یاد دلایا آپ نے فرمایا وہ سورۃ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی بڑا قرآن ہے جو میں دیا گیا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4803] دوسری حدیث میں آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ام القرآن یعنی سورۃ الفاتحہ⧉ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے ۔ [صحیح بخاری:4804] پس صاف ثابت ہے کہ سبع مثانی اور قرآن عظیم سے مراد سورۃ الفاتحہ⧉ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے سوا اور بھی یہی ہے اس کے خلاف یہ حدیثیں نہیں۔ جب کہ ان میں بھی یہ حقیقت پائی جائے جیسے کہ پورے قرآن کریم کا وصف بھی اس کے مخالف نہیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ الزمر ۳۹:۲۳ ⧉ پس اس آیت میں سارے قرآن کو مثانی کہا گیا ہے، اور متشابہ بھی۔ پس وہ ایک طرح سے مثانی ہے اور دوسری وجہ سے متشابہ۔ اور قرآن عظیم بھی یہی ہے جیسے کہ اس روایت سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال ہوا کہ تقویٰ پر جس مسجد کی بنا ہے وہ کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنی مسجد کی طرف اشارہ کیا ۔ [صحیح مسلم:1398] حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آیت مسجد قباء کے بارے میں اتری ہے۔پس قاعدہ یہی ہے کہ کسی چیز کا ذکر دوسری چیز سے انکار نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ بھی وہی صفت رکھتی ہو۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
پس تجھے ان کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے بے نیاز رہنا چاہیئے اسی فرمان کی بنا پر امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صحیح حدیث جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن کے ساتھ تغنی نہ کرے [صحیح بخاری:7527] کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ قرآن کو لے کر اس کے ماسوا سے دست بردار اور بے پرواہ نہ ہو جائے وہ مسلمان نہیں۔ گو یہ تفسیر بالکل صحیح ہے لیکن اس حدیث سے یہ مقصود نہیں حدیث کا صحیح مقصد اس ہماری تفسیر کے شروع میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم ﷺ کے ہاں ایک مرتبہ مہمان آئے آپ ﷺ کے گھر میں کچھ نہ تھا آپ ﷺ نے ایک یہودی سے رجب کے وعدے پر آٹا ادھار منگوایا لیکن اس نے کہا بغیر کسی چیز کو رھن رکھے میں نہیں دوں گا اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: واللہ میں امین ہوں اور زمین والوں میں بھی اگر یہ مجھے ادھار دیتا یا میرے ہاتھ فروخت کر دیتا تو میں اسے ضرور ادا کرتا پس آیت لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الخ نازل ہوئی اور گویا آپ ﷺ کی دلجوئی کی گئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/16:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” انسان کا ممنوع ہے کہ کسی کے مال و متاع کو للچائی ہوئی نگاہوں سے تاکے۔ یہ جو فرمایا کہ ان کی جماعتوں کو جو فائدہ ہم نے دے رکھا ہے اس سے مراد کفار کے مالدار لوگ ہیں۔“