سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ” معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ النجم ۵۳:۳۷ ⧉ ” وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا “ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ الانبیاء ۲۱:۵۱ ⧉ الخ، ” ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم [علیہ السلام] کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے “۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ” اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا “۔سورۃ الانعام⧉ میں ارشاد ہے قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ الانعام ۶:۱۶۱ ⧉ الخ، ” کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا “۔