ایک قول ہے کہ ایک گونگا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ غلام ہے جس پر آپ رضی اللہ عنہ خرچ کرتے تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔