کتاب مبین اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ
ﷺ سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ ” اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شرافت وکرامت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر “۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی
سورۃ نساء⧉ کے شروع کی
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا النساء ۴:۴۱ ⧉ یعنی ” کیونکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے “۔
نبی کریم ﷺ نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء⧉ پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: بس کر کافی ہے ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ
ﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ [صحیح بخاری:5049] پھر فرماتا ہے
” اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے “۔ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” یہ کتاب سنت رسول
ﷺ کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ” جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے “۔ جیسے فرمان ہے کہ
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ الاعراف ۷:۶ ⧉ ” امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے “۔
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ المائدہ ۵:۱۰۹ ⧉ ” رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے “۔
اور آیت میں ہے نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ القصص ۲۸:۸۵ ⧉ یعنی ” جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے “۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔