وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ * هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
الکہف ۱۸:۴۹ ⧉ ” کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا، اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے۔ “ الخاور آیت میں ہے
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ * هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
الجاثیہ ۴۵: ۲۸⧉ ۲۹⧉ ” ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے۔ “یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہوگا دوسری جانب خود نبی علیہ السلام سامنے موجود ہوگا۔ جیسے فرمان ہے وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ الزمر ۳۹:۶۹ ⧉ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا “ اور آیت میں ہے فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا النساء ۴:۴۱ ⧉ ” یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے ان تمام پر گواہ کر کے لائیں گے۔ “ لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے۔ اسی کا مزید بیان سورۃ الحاقہ میں ہےفَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ * إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ * فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ * فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ * قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ * كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ * وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ * بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ * وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ
الحاقہ ۶۹: ۱۹⧉ ۲۰⧉ ۲۱⧉ ۲۲⧉ ۲۳⧉ ۲۴⧉ ۲۵⧉ ۲۶⧉ ۔ فَتِيلً سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کھجور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے۔ بزار میں ہے نبی کریم ﷺ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا، چہرہ چمکنے لگے گا، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا، اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے۔ وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے۔ لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا، اس کا جسم بڑھ جائے گا، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر، یہ جواب دے گا، اللہ تمہیں غارت کرے، تم میں سے ہر شخص کے لیے یہی اللہ کی مار ہے۔ [سنن ترمذي:3136،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی، وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا۔