ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف⧉ میں ہے یعنی مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ غَوْرً مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔