ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔
کعب احبار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اسے چاٹتے ہیں اور بالکل چھلکے جیسی کر دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں چلو کل توڑ دیں گے۔ دوسرے دن جو آتے ہیں تو جیسی اصل میں تھی ویسی ہی پاتے ہیں۔ آخری دن وہ بہ الہام الٰہی جاتے وقت ان شاءاللہ کہیں گے، دوسرے دن جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے، ویسی ہی پائیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہی کعب سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہو پھر بیان کی ہو اور کسی راوی کو وہم ہو گیا ہو اور اس نے نبی کریم ﷺ کا فرمان سمجھ کر اسے مرفوعاً بیان کر دیا ہو۔ وَاللهُ اَعْلَمُ یہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جو مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور فرماتے جاتے تھے۔ لا الہ الا اللہ عرب کی خرابی کا وقت قریب آ گیا، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اس پر ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم بھلے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3346] یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ ہاں بخاری شریف میں راویوں کے ذکر میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔ مسلم میں ہے اور بھی اس کی سند میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت ہی کم پائی گئی ہیں۔
مثلا زہری کی روایت عروہ سے حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی ہیں اور چار عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے سے روایت کرنا پھر چاروں عورتیں صحابیہ رضی اللہ عنہن۔ پھر ان میں بھی دو حضور علیہ السلام کی بیویوں کی لڑکیاں اور دو آپ کی بیویاں رضی اللہ عنہن۔ بزار میں یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [ مترجم کہتا ہے اس تکلف کی اور ان مرفوع احادیث کے متعلق اس قول کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم آیت قرآنی اور ان صحیح مرفوع احادیث کے درمیان بہت آسانی سے یہ تطبیق دے سکتے ہیں کہ کوئی ایسا سوراخ نہیں کر سکتے جس میں سے نکل آئیں۔ پتلی کر دینا یا حلقے کے برابر سوراخ کر دینا اور بات ہے، جو مقصود ذوالقرنین کا اس دیوار کے بنانے سے تھا، وہ بفضلہ حاصل ہے کہ نہ وہ اوپر سے اتر سکیں نہ توڑ کر یا سوراخ کر کے نکل سکیں اور اسی کی خبر آیت میں ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث نہیں۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔ مترجم ] اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے ناقتہ دکاء کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ جعلہ دکاء ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ الانبیاء ۲۱:۹۶ ⧉ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔
جب صور پھونکا جاے گا اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان جن سب خلط ملط ہو جائیں گے۔ بنی خزارہ کے ایک شیخ کا بیان ابن جریر میں ہے کہ جب جن انسان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے، اس وقت ابلیس کہے گا کہ میں جاتا ہوں، معلوم کرتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے؟ مشرق کی طرف بھاگے گا لیکن وہاں فرشتوں کی جماعتوں کو دیکھ کر رک جائے گا اور لوٹ کر مغرب کو پہنچے گا، وہاں بھی یہی رنگ دیکھ کر دائیں بائیں بھاگے گا لیکن چاروں طرف سے فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر ناامید ہو کر چیخ پکار شروع کر دے گا۔ اچانک اسے ایک چھوٹا سا راستہ دکھائی دے گا، اپنی ساری ذریات کو لے کر اس میں چل پڑے گا آگے جا کر دیکھے گا کہ دوزخ بھڑک رہی ہے۔ ایک دروغہ جہنم اس سے کہے گا کہ اے موذی خبیث! کیا اللہ نے تیرا مرتبہ نہیں بڑھایا تھا؟ کیا تو جنتیوں میں نہ تھا؟ یہ کہے گا آج ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتے ہو؟ آج تو چھٹکارے کا راستہ بتاؤ، میں عبادت الٰہی کے لیے تیار ہوں، اگر حکم ہو تو اتنی اور ایسی عبادت کروں کہ روئے زمین پر کسی نے نہ کی ہو۔ داروغہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ایک فریِضہ مقرر کرتا ہے، وہ خوش ہو کر کہے گا میں اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے پوری مستعدی سے موجود ہوں۔ حکم ہو گا کہ یہی کہ تم سب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب یہ خبیث ہکا بکا رہ جائے گا۔ وہیں فرشتہ اپنے پر سے اسے اور اس کی تمام ذریت کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ جہنم انہیں لے کر آ دبوچے گی اور ایک مرتبہ تو وہ جلائے گی کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام نبی رسول گھٹنوں کے بل اللہ کے سامنے عاجزی میں گر پڑیں گے۔طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔
نسائی میں ہے کہ ان کی بیویاں بچے ہیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے۔ پھر فرمایا صور پھونک دیا جائے گا جیسے حدیث میں ہے کہ وہ ایک قرن ہے جس میں صور پھونک دیا جائے گا، [سنن ابوداود:4732،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھونکنے والے اسرافیل علیہ السلام ہوں گے۔ جیسے کہ لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ اور بھی بہت سی احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں میں کیسے چین اور آرام سے بیٹھوں؟ صور والا فرشتہ صور کو منہ سے لگائے ہوئے پیشانی جھکائے ہوئے کان لگائے ہوئے منتظر بیٹھا ہے کہ کب حکم ہو اور میں پھونک دوں۔ لوگوں نے پوچھا نبی کریم ﷺ پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا ۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرماتا ہے، ہم سب کو حساب کے لیے جمع کریں گے۔ سب کا حشر ہمارے سامنے ہو گا جیسے سورۃ الواقعہ⧉ میں ہے کہ قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ الواقعہ ۵۶: ۴۹⧉ ۵۰⧉ اگلے پچھلے سب کے سب مقررہ دن کے وقت اکٹھے کئے جائیں گے اور آیت میں ہے وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا الکہف ۱۸:۴۷ ⧉ ہم سب کو جمع کریں گے۔ ایک بھی تو باقی نہ بچے گا۔