عبدالرزاق میں ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُِ ﷲِ کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابودرداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے، یہی باقیات صالحات ہیں، یہی جنت کے خزانے ہیں ۔ اس کو سن کر ابودرداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا، کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں ۔ [سنن ابن ماجہ:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔