حدیبیہ کے میدان میں بھی جب نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے قتل کر دیا جو کہ نبی کریم ﷺ کا پیغام لے کر مکہ شریف میں گئے تھے تو آپ ﷺ نے اپنے چودہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایک درخت تلے مشرکوں سے جہاد کرنے کی بیعت لی پھر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط ہے تو آپ ﷺ نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور صلح کی طرف مائل ہو گئے۔ پھر جو واقعہ ہوا وہ ہوا۔ اسی طرح جب آپ ﷺ ہوازن کی لڑائی سے حنین والے دن فارغ ہوئے اور مشرکین طائف میں جا کر قلعہ بند ہو گئے تو آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا چالیس دن تک یہ محاصرہ رہا بالآخر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد محاصرہ اٹھا کر آپ ﷺ مکہ کی طرف لوٹ گئے اور جعرانہ سے آپ ﷺ نے عمرے کا احرام باندھا یہیں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور یہ عمرہ آپ ﷺ کا ذوالقعدہ میں ہوا یہ سن ٨ ہجری کا واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر درود وسلام بھیجے۔ [صحیح مسلم:3033]
پھر فرماتا ہے وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ النحل ۱۶:۱۲۶ ⧉ جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کر لو، یعنی مشرکین سے بھی عدل کا خیال رکھو، یہاں بھی زیادتی کے بدلے کو زیادتی سے تعبیر کرنا ویسا ہی ہے جیسے اور جگہ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا الشوریٰ ۴۲:۴۰ ⧉ عذاب وسزا کے بدلے میں برائی کے لفظ سے بیان کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت مکہ شریف میں اتری جہاں مسلمانوں میں کوئی شوکت و شان نہ تھی نہ جہاد کا حکم تھا پھر یہ آیت مدینہ شریف میں جہاد کے حکم سے منسوخ ہو گئی، لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کی تردید کی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے عمرہ قضاء کے بعد نازل ہوئی ہے مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیزگاری اختیار کرو اور اسے جان لو کہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت رہتی ہے۔