اور الناس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا۔
پھر استغفار کا ارشاد ہوتا ہے جو عموماً عبادات کے بعد فرمایا جاتا ہے نبی کریم ﷺ فرض نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:591] آپ ﷺ لوگوں کو سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:843] یہ بھی مروی ہے کہ عرفہ کے دن شام کے وقت نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے لیے استغفار کیا، [سنن ابن ماجه:3013، قال الشيخ الألباني:ضعیف] آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ تمام استغفاروں کا سردار یہ استغفار ہے دعااَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لیْ فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ.
[صحیح بخاری:6306] نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اسے رات کے وقت پڑھ لے اگر اسی رات مر جائے گا تو قطعا جنتی ہو گا اور جو شخص اسے دن کے وقت پڑھے گا اور اسی دن مرے گا تو وہ بھی جنتی ہے۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ ﷺ نے فرمایا یہ پڑھو دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ] » ۔ [صحیح بخاری:834] استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔