پس رسول ﷺ باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا، اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لیے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔
ابن ابی حاتم میں نبی کریم ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام ساز و سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔ الغرض کفار کو زینت کی زندگی اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لیے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کر لو، اللہ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لیے چھٹکارا کر دیتا ہے اور بے شان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ رزاق اور زبردست قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں۔ ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ ہشام رحمہ اللہ کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آ کر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو! نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے، اے میرے گھر والو، نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کر دیتے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:561/4:مرسل] ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کر دوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ [سنن ترمذي:2466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس نے اپنی تمام غور و فکر اور قصد و خیال کو اکٹھا کر کے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کر لے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں، یہاں کے غم مول لے لیے، اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه:4105:قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ دنیا کے غموں میں ہی، اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہو جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔ اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا، اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہرکام کا اطمینان نصیب فرما دے گا۔ اس کے دل کو سیراور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ [سنن ابن ماجه:،قال4106 الشيخ الألباني:حسن] پھر فرمایا دنیا و آخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طالب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف، طیب و طاہر، کامل و مکمل ہے۔ [صحیح مسلم:2270]