Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الانبیاء — آیت 37 (اردو) — ویڈیو

الانبیاء • آیت نمبر 37 (کل 112 آیتیں) • اردو


خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ 37
ترجمہ:
انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو الانبیاء ۲۱:۳۷
تفسیر:
تفسیر کا اقتباس از الانبیاء ۲۱:۳۶
جلد باز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ‌ ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ کے منکر۔

اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت

وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا

الفرقان ۲۵: ۴۱ ۴۲ ‏ یعنی ” وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ “ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا الاسراء ۱۷:۱۱ ‏ ” انسان بڑا ہی جلدباز ہے “۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ” اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔‏“

حضور فرماتے ہیں، تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے ۔ آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ” میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں “۔

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الانبیاء • آیت 36 اگلی الانبیاء • آیت 38