سورۃ آل عمران⧉ اور سورۃ مریم⧉ میں بھی یہی ترتیب ہے۔ مراد عصمت والی عورت سے مریم ہیں جیسے فرمان ہے، آیت وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ التحریم ۶۶:۱۲ ⧉ یعنی ” عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور عیسیٰ [علیہ السلام] کو اپنی بے نظیر قدرت کانشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہو جائے “۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لیے بھی اور انسانوں کے لیے بھی۔