Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الحج — آیت 42 (اردو) — ویڈیو

الحج • آیت نمبر 42 (کل 78 آیتیں) • اردو


وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ 42
ترجمہ:
اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد وثمود بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں الحج ۲۲:۴۲
تفسیر:
کافروں کی حجت بازی بہت پرانی بیماری ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم کو تسلی دیتا ہے کہ ” منکروں کا انکار آپ کے ساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا۔ میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کر لیں۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخر کار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر درد ناک انجام ہوا “۔

سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا پھر آپ نے آیت وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ہود ۱۱:۱۰۲ ‏ تلاوت کی ۔

پھر فرمایا کہ ” کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کر دیا۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، جو بلند و بالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بے کار ثابت ہوئی۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ النساء ۴:۷۸ ‏ یعنی ” گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں “۔

” کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی؟ “

امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر و الا عبار میں روایت لائے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کر دے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے۔ دنیا کی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنا دے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کر دے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کر دیئے گئے۔‏“

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الحج • آیت 41 اگلی الحج • آیت 43