صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تین دفعہ اجازت مانگی، جب کوئی نہ بولا تو آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا! دیکھو عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، انہیں بلا لو لوگ گئے، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں۔ واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی۔ دوبارہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا آپ رضی اللہ عنہ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ کا حکم ہے کہ تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ ۔