سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آصف تھے سلیمان علیہ السلام کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخا بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔
عبداللہ بن لہیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس سلیمان علیہ السلام نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کر کے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا اسی وقت تخت بلقیس سامنے آ گیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان علیہ السلام نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بے نیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ الروم ۳۰:۴۴ ⧉ ” جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لیے۔ “ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لیے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے۔صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہو جائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔ [صحیح مسلم:2577]