Landscape MP4 Vertical MP4

سورت آلِ عمران — آیت 198 (اردو) — ویڈیو

آلِ عمران • آیت نمبر 198 (کل 200 آیتیں) • اردو


لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۗ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ 198
ترجمہ:
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے آلِ عمران ۳:۱۹۸
تفسیر:
تفسیر کا اقتباس از آلِ عمران ۳:۱۹۶
دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش، ان کی راحت و آرام، ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ غافر ۴۰:۴ ‏ اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے،

دوسری جگہ ارشاد ہے آیت قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ یونس ۱۰:۶۹ ‏، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے پھر ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے۔

ارشاد ہے نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ لقمان ۳۱:۲۴ ‏ انہیں ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے عذابوں کی طرف بے بس کر دیں گے اور جگہ ہے فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا الطارق ۸۶:۱۷ ‏ کافروں کو کچھ مہلت دے دے اور جگہ ہے أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ القصص ۲۸:۶۱ ‏ کیا وہ شخص جو ہمارے بہترین وعدوں کو پالے گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے گزار رہا ہے لیکن قیامت کے دن عذابوں کیلئے حاضری دینے والا ہے برابر ہو سکتے ہیں؟

چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لیے ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ متقی گروہ قیامت کے دن نہروں والی، بہشتوں میں ہو گا، ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں انہیں * ابرار* اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماں باپ کے ساتھ اور اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے جس طرح تیرے ماں باپ کا تجھ پر حق ہے اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے یہی روایت سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی مروی ہے اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے۔ [الدار المنشور للسیوطی:199/2] ‏ واللہ اعلم۔

سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابرار وہ ہیں جو کسی کو ایذاء نہ دیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر شخص کیلئے خواہ نیک ہو، خواہ بد موت اچھی چیز ہے اگر نیک ہے تو جو کچھ اس کیلئے اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے اور اگر بد ہے تو اللہ کے عذاب اور اس کے گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے تھے اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے کی دلیل آیت وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ آلِ عمران ۳:۱۹۸ ‏ ہے اور دوسری کی دلیل آیت وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ آلِ عمران ۳:۱۷۸ ‏، ہے یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے کو اپنے حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہیں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:496/7] ‏

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی آلِ عمران • آیت 197 اگلی آلِ عمران • آیت 199