پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہیئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لیے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بے خبر ہو۔
دراصل اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت، اس آیت کی مثل ہے جو سورۃ الالبقرہ⧉ میں گزر چکی وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ البقرہ ۲:۱۳۵ ⧉ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفی ﷺ ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام الصلٰوۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی [ترمذی وغیرہ] [سنن ترمذي:2995،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔