اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے، پھر بڈھا ہوتاہے، پھر بڈھا پھوس ہو جاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے، دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہرطاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہو جاتی ہیں۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہو جاتے ہیں۔ یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک، وہ عالم و قادر، نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں ” میں نے اس آیت کو ضُعْفًا تک ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تلاوت کیا اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس آیت کو اتنا ہی پڑھا تھا جو آپ ﷺ پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی ۔ [سنن ابوداود:3978،قال الشيخ الألباني:حسن]