اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا
الأحزاب ۳۳:۶ ⧉ ” نبی کریم ﷺ مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں “۔ پس آیتوَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا
الأحزاب ۳۳:۳۶ ⧉ خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28517:ضعیف] مسند احمد میں ہے کہ ایک انصاری کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کر لوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کر دیا اور اب جلیبیب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر دیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ ” تم رسول اللہ ﷺ کی بات کورد کرتے ہو؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔“ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ ﷺ ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا نبی کریم ﷺ کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔ چنانچہ انصاری سیدھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ” کیا آپ ﷺ اس بات سے خوش ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں ۔ کہا ” پھر آپ ﷺ کو اختیار ہے آپ ﷺ نکاح کر دیجئیے“، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں جلبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ” میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا“ ۔ [مسند احمد:136/3:صحیح]
ایک اور روایت میں سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لیے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کر لیں کہ نبی کریم ﷺ ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔“ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جلیبیب رضی اللہ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ نبی کریم ﷺ ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا: سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں ۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چارپائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لیے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ ” انکار نہ کرو۔“ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما ۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ [صحیح مسلم:2472] انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ ” نبی کریم ﷺ کی بات رد نہ کرو“ اس وقت یہ آیت وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا
جیسے فرمان ہے فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ النور ۲۴:۶۳ ⧉ یعنی ” جو لوگ ارشاد نبی کریم ﷺ کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو “۔