اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی ۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔ [سنن ترمذي:3240،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کر لے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟[صحیح بخاری:4812] مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ [صحیح مسلم:2787] مسند احمد میں ہے نبی کریم ﷺ نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ ﷺ اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ ” میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں “ ۔ آپ ﷺ اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ ﷺ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ [مسند احمد:72/2:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح نبی کریم ﷺ نے اسے حکایت کیا تھا؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا ” میں بادشاہ ہوں “۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ ﷺ اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ نبی کریم ﷺ کو گرا نہ دے ۔ [صحیح مسلم:2788] بزار کی رویت میں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ ﷺ تین مرتبہ آئے گئے ۔ [طبرانی کبیر:13321:ضعیف] وَاللهُ اَعْلَمُ ۔معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے فرمایا: میں آج تمہیں سورۃ الزمر ⧉ کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آ گیا وہ جنتی ہو گیا ، اب آپ ﷺ نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بنا کر بہ تکلف روئے ۔ [طبرانی کبیر:2459:ضعیف]
ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔ [ ١ ] اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کر لیتے اور معلوم کر لیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ [ ٢ ] پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کر دوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔ [ ٣ ] اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں ۔ [طبرانی کبیر:2447:ضعیف و منقطع] اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔