ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ هَـٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
الواقعہ ۵۶: ۵۱⧉ ۵۲⧉ ۵۳⧉ ۵۴⧉ ۵۵⧉ ۵۶⧉ اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہو گی۔ اور جگہ فرمایا ہےإِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ
الدخان ۴۴: ۴۳⧉ ۴۴⧉ ۴۵⧉ ۴۶⧉ ۴۷⧉ ۴۸⧉ ۴۹⧉ ۵۰⧉ ، یعنی یقیناً گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ، لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریم والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کر دیئے جائیں گے۔ [[مجمع الزوائد: [18598] ضعیف] پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہو گئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کر دیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ الانعام ۶:۲۳ ⧉ اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بے وجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آ جاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ اب ہمیشہ یہیں پہ رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی ِگرو گے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔