ایک حدیث میں ہے کہ اذان و اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی ۔ [سنن ابوداود:521،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح بات یہ ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے مؤذن غیر مؤذن ہر اس شخص کو شامل ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ یاد رہے کہ آیت کے نازل ہونے کے وقت تو سرے سے اذان شروع ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ آیت مکے میں اترتی ہے اور اذان مدینے پہنچ جانے کے بعد مقرر ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خواب میں اذان دیتے دیکھا اور سنا، نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال کو سکھاؤ۔ وہ بلند آواز والے ہیں ۔ پس صحیح بات یہی ہے کہ آیت عام ہے اس میں مؤذن بھی شامل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ہیں ” یہی لوگ حبیب اللہ ہیں۔ یہی اولیاء اللہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ ہیں یہی سب سے زیادہ اللہ کے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ کی باتیں مان لیں پھر دوسروں سے منوانے لگے اور اپنے ماننے میں نیکیاں کرتے رہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے رہے یہاں اللہ کے خلیفہ ہیں، بھلائی اور برائی نیکی اور بدی برابر برابر نہیں بلکہ ان میں بے حد فرق ہے جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر اور اس کی برائی کو اس طرح دفع کر۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ” تیرے بارے میں جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے تو تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمابرداری کر اس سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ایسا کرنے سے تیرا جانی دشمن دلی دوست بن جائے گا “، اس وصیت پر عمل اسی سے ہو گا جو صابر ہو نفس پر اختیار رکھتا ہو اور ہو بھی نصیب دار کہ دین و دنیا کی بہتری اس کی تقدیر میں ہو۔“سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” ایمان والوں کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ غصے کے وقت صبر کریں اور دوسرے کی جہالت پر اپنی بردباری کا ثبوت دیں اور دوسرے کی برائی سے در گزر کر لیں ایسے لوگ شیطانی داؤ سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے دشمن بھی پھر تو ان کے دوست بن جاتے ہیں۔“
اب شیطانی شر سے بچنے کا طریقہ بیان ہو رہا ہے کہ ” اللہ کی طرف جھک جایا کرو اسی نے اسے یہ طاقت دے رکھی ہے کہ وہ دل میں وساوس پیدا کرے اور اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس کے شر سے محفوظ رکھے “۔نبی کریم ﷺ اپنی نماز میں فرماتے تھے أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ العَلِيم مِنَ الشَّیطانِ الرَّجِيمِ مِن هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ومِنْ هَمَزَاتِ الشّيَاطِينِ وَأَعُوذَ بَكَ رَبِّي أَنْ يَحْضُرُونِ ۔ [سنن ابوداود:775،قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس مقام جیسا ہی مقام صرف سورۂ اعراف میں ہے جہاں ارشاد ہے خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ الاعراف ۷:۱۹۹ ⧉ ، اور سورۃ مومنین کی آیت اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ المؤمنون ۲۳:۹۶ ⧉ ، میں حکم ہوا ہے کہ ” در گزر کرنے کی عادت ڈالو اور اللہ کی پناہ میں آ جایا کرو برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرو “ وغیرہ۔