اس کے بعد کا جملہ
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّـهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّـهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ] ] ٢٤ [ [
[سورةالشورى(الشوریٰ ۴۲:۲۴ ⧉ ، یَخْتِمْ پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ یَخْتِمْ پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ العلق ۹۶:۱۸ ⧉ میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا الاسراء ۱۷:۱۱ ⧉ میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ الانفال ۸:۷ ⧉ کا عطف وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ الشوریٰ ۴۲:۲۴ ⧉ ، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کر دیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔