پھر کہتا ہے ” موسیٰ [علیہ السلام] تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ” میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ “، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ” کیوں جی اس پر آسمان سے ہن [دولت] کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ” ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں “۔ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب