اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ” اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ “ پھر ارشاد ہے کہ ” محمد ﷺ نے اپنا یہ کہنا کہا “، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔
جیسے اور آیت میں ہے وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا الفرقان ۲۵:۳۰ ⧉ یعنی ” رسول ﷺ کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا “۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ الزخرف ۴۳:۸۰ ⧉ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی قَالَ کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ الزخرف ۴۳:۸۵ ⧉ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ” قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے “۔ ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ” مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی “۔اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالْحَمْدُ لِلَّـه ۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔