سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو ۔ [سیرۃ ابن ھشام:196/1] طبرانی میں ہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو رب بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا، جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گزرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے، اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کر دیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آ گئی پھر اسے گمراہ کیا۔“یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے، نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے، ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں، اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں، بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟ جیسے فرمایا مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ الاعراف ۷:۱۸۶ ⧉ یعنی ” جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں “۔