کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، [جب کہا جاتا] اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔