علمی بددیانت فرماتا ہے کہ
” رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے “۔ مستدرک حاکم میں ہے ” جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ” اسی نے اس نبی کریم ﷺ پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے “۔