مسند میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے ۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح بخاری:7419] ۔
پھر فرمایا ” اے نبی کریم ﷺ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے “۔ جیسے اور آیت میں ہے، قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ فصلت ۴۱:۴۴ ⧉ ” ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں “۔ اور آیت میں ہے وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا الاسراء ۱۷:۸۲ ⧉ ” ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے “۔پھر ارشاد ہوا کہ ” ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا “۔
” اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں “۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم ﷺ بتاتے ہیں۔ ” اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی “۔ جیسے اور آیت میں ہے وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ الاعراف ۷:۹۶ ⧉ یعنی ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے “۔ اور آیت میں ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ الروم ۳۰:۴۱ ⧉ ” لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے “، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ” بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں “۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ” یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے “۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے ۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ ﷺ نے یہی آیت وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ المائدہ ۵:۶۵ ⧉ تلاوت فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل] یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ ﷺ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا ۔ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ” ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے “۔ جیسے فرمان آیت وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ الاعراف ۷:۱۵۹ ⧉ ” موسیٰ [علیہ السلام] کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا “۔ اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ الحدید ۵۷:۲۷ ⧉ ” ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے “۔ یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیتثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ
فاطر ۳۵:۳۲ ⧉ ۔ یعنی ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے “۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: جماعتیں جماعتیں ۔ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح] یعقوب بن یزید کہتے ہیں ” جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ المائدہ ۵:۶۵ ⧉ ، اور وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ الاعراف ۷:۱۸۱ ⧉ بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ” اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔“ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف] لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے فالْحَمْدُ لِلَّـه ۔