تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ البقرہ ۲:۲۵۵ ⧉ ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ سبأ ۳۴:۲۳ ⧉ ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔