Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الحدید — آیت 11 (اردو) — ویڈیو

الحدید • آیت نمبر 11 (کل 29 آیتیں) • اردو


مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ 11
ترجمہ:
کون ہے جو خدا کو (نیت) نیک (اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا کرے اور اس کے لئے عزت کا صلہ (یعنی جنت) ہے الحدید ۵۷:۱۱
تفسیر:
اللہ کو قرض دینا پھر فرماتا ہے مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا الحدید ۵۷:۱۱ ‏ ” کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ “ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا ہے۔

بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو۔ پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ ” اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی۔ “ اس آیت کو سن کر ابودحداح انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم کے پاس آئے اور کہا: کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں“، کہا: ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئیے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا۔

آپ رضی اللہ عنہ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی، وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے، بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔ وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں۔ نبی کریم فرمانے لگے ” جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یاقوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کو اللہ نے دے دیں۔‏“ [مسند بزار:402/5:ضعیف] ‏

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الحدید • آیت 10 اگلی الحدید • آیت 12