نبی کریم ﷺ سورۃ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ الخ پڑھ کر فرمانے لگے ” انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے، یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا، پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔“ [صحیح مسلم:2985] اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔ پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ الحدید ۵۷:۸ ⧉ یعنی تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول ﷺ تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ” سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟“ کہا فرشتے، فرمایا: ” وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟“، کہا پھر انبیاء علیہ السلام، فرمایا: ” ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟“ کہا پھر ہم، فرمایا: ” واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے“ ۔ [تخریج احادیث و آثار کتاب فی ظلال القرآن:290حسن لغیرہ] سورۃ الالبقرہ⧉ کے شروع میں آیت الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ البقرہ ۲:۳ ⧉ کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں۔پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ المائدہ ۵:۷ ⧉ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو آدم کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ