اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ الغاشیہ ۸۸: ۲۱⧉ ۲۲⧉ ” نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں “ اور فرمایا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ الرعد ۱۳:۴۰ ⧉ ” تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے “۔