Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الانعام — آیت 137 (اردو) — ویڈیو

الانعام • آیت نمبر 137 (کل 165 آیتیں) • اردو


وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ 137
ترجمہ:
اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ الانعام ۶:۱۳۷
تفسیر:
شیطان کے چیلے جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لیے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بے وجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔

اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کر دیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی۔ قرآن نے فرمایا کہ ” ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ پر قتل کر دی گئیں “۔

پس یہ سب وسوسے شیطانی تھے لیکن یہ یاد رہے کہ رب کا ارادہ اور اختیار اس سے الگ نہ تھا اگر وہ چاہتا تو مشرک ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا اور اس کی بازپرس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ پس ” اے نبی تو ان سے اور ان کی اس افترا پردازی سے علیحدگی اختیار کرلو اللہ خود ان سے نمٹ لے گا “۔

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الانعام • آیت 136 اگلی الانعام • آیت 138