Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الانعام — آیت 24 (اردو) — ویڈیو

الانعام • آیت نمبر 24 (کل 165 آیتیں) • اردو


انْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ 24
ترجمہ:
دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا الانعام ۶:۲۴
تفسیر:
تفسیر کا اقتباس از الانعام ۶:۲۲
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ ق صص کی آیت وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ القصص ۲۸:۶۲ ‏ میں بھی یہ موجود ہے۔

اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فِتْنَتُهُمْ ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ” ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔‏“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔

یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔‏“

یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ المجادلہ ۵۸:۱۸ ‏ ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟

چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا غافر ۴۰: ۷۳ ۷۴ ‏ ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے ضَلُّوا عَنَّا وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔

پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔

جیسے اور جگہ ہے وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ الانفال ۸:۲۳ ‏ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔

اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور کی حمایت کرتے ہیں آپ کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔

جیسے کہ ابوطالب کہ حضور کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ سے اور آپ کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الانعام • آیت 23 اگلی الانعام • آیت 25