جبکہ حواریوں کو لے کر آپ علیہ السلام دین اللہ کی تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آ گئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ بن گئے۔ پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گزر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہو گئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ [علیہ السلام] اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ علیہ السلام کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورۃ نساء⧉ میں مفصل ملاحظہ ہو۔
سچے عیسائی سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول ﷺ کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کر دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لے، آپ علیہ السلام نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے، سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا ” تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ۔“ پھر فرمایا ” تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے۔“ ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا ” تم بیٹھ جاؤ“، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی کھڑے ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور خود عیسیٰ علیہ السلام اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کر لیا اور قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔
سچے عیسائی پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہو گئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔ ایک فرقے نے کہا: ہم میں اللہ کا بیٹا تھا، جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے۔ تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔ پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ ﷺ پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ ﷺ سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا، نبی کریم ﷺ کا غالب آ جانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کر دینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ [نسائی فی السنن الکبری:489/6] پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آ جائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُاللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص⧉ ف کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالْحَمْدُ لِلَّـه