پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو “۔
مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ” اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ ﷺ نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ” ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ” جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول ! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ” سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ ۔ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ النحل ۱۶:۹۰ ⧉ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا الطلاق ۶۵:۲ ⧉ ، میں ہے۔“ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ” لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ” مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ” وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ” یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔“آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم ﷺ کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ ﷺ انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ” عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ” متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287]
مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” ان سے کہلوا دو کہ بکثرت لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم ﷺ سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل]
جو اللہ کا، اللہ اس کاابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے ۔ [طبرانی صغیر:321:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد ۔ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے “۔جیسے اور جگہ ہے اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ الرعد ۱۳:۸ ⧉ ” ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے “۔