بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔
الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔