وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَـٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
آلِ عمران ۳:۱۹۹ ⧉ یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے، ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی باتوں کو دنیوی نفع کی خاطر فروخت نہیں کرتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “ اور آیت میں ہےالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
القصص ۲۸: ۵۲⧉ ۵۳⧉ ۵۴⧉ ” جنہیں ہم نے اس قرآن سے پہلے اپنی کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی آیتیں سن کر اپنے ایمان کا اور اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ام اس سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ انہیں ان کے صبر کا اجر ہے۔ “ اور آیت میں ہے الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ البقرہ ۲:۱۲۱ ⧉ ” جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ “ اور فرمان ہےقُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩
الاسراء ۱۷: ۱۰۷⧉ ۱۰۸⧉ ۱۰۹⧉ ” جو لوگ پہلے علم دیئے گئے ہیں، وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں۔ “ امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا، ان کے بارہ گروہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اس نالائق گروہ سے الگ رہا۔ اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے۔ چنانچہ زمین میں ایک سرنگ ہو گئی۔ یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار نکل گئے۔ وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جو ہمارے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آیت وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا الاسراء ۱۷:۱۰۴ ⧉ کا یہی مطلب ہے۔اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے، یہ آخرت کا وعدہ ہے۔ کہتے ہیں: اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے۔ کہتے ہیں: اس قوم کے اور تمہارے درمیان ایک نہر ہے