مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ لو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ، اس میں کیا احکام ہیں؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کر لیں گے۔ ورنہ نہ مانیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کے باربار کے اصرار پر بھی یہ لوگ کہتے رہے۔ آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: بولو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گر پڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چنانچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کر دیا ہے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اسی وقت تمام پہاڑ، درخت، پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔