سنن میں بھی یہ حدیث ہے کہ اس عورت نے کہا تھا کہ میں گر پڑتی ہوں اور بیہوشی کی حالت میں میرا کپڑا کھل جاتا ہے جس سے بےپردگی ہوتی ہے۔ اللہ سے میری شفا کی درخواست کیجئے۔ آپ نے فرمایا: تم ان دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو، یا تو میں دعا کروں اور تمہیں شفا ہو جائے، یا تم صبر کرو اور تمہیں جنت ملے۔ اس نے کہا: میں صبر کرتی ہوں کہ مجھے جنت ملے۔ لیکن اتنی دعا تو ضرور کیجئے کہ میں بےپردہ نہ ہو جایا کروں، آپ ﷺ نے دعا کی۔ چنانچہ ان کا کپڑا کیسی ہی وہ تلملاتیں، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا تھا۔ [صحیح بخاری:5652]
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ اپنی تاریخ میں عمرو بن جامع کے حالات میں نقل کرتے ہیں کہ ایک نوجوان عابد مسجد میں رہا کرتا تھا اور اللہ کی عبادت کا بہت مشتاق تھا۔ ایک عورت نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کئے، یہاں تک کہ اسے بہکا لیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے ساتھ کوٹھڑی میں چلا جائے اچانک اسے یہ آیت إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ یاد آئی اور غش کھا کر گر پڑا۔ بہت دیر کے بعد جب اسے ہوش آیا، اس نے پھر اس آیت کو یاد کیا اور اس قدر اللہ کا خوف اس کے دل میں سمایا کہ اس کی جان نکل گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سے ہمدردی اور غم خواری کی۔ چونکہ انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا تھا، آپ ان کی قبر پر گئے، آپ کے ساتھ بہت سے آدمی تھے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی اور اسے آواز دے کر فرمایا: اے نوجوان! وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ الرحمٰن ۵۵:۴۶ ⧉ ” جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے، اس کیلئے دو دو جنتیں ہیں۔ “ اسی وقت قبر کے اندر سے آواز آئی کہ مجھے میرے رب عزوجل نے وہ دونوں مرتبے دو دو عطا فرما دیئے۔
یہ تو تھا حال اللہ والوں کا اور پرہیزگاروں کا کہ وہ شیطانی جھٹکوں سے بچ جاتے ہیں، اس کے فن فریب سے چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ان کا حال بیان ہو رہا ہے جو خود شیطان کے بھائی بنے ہوئے ہیں، جیسے إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ الاسراء ۱۷:۲۷ ⧉ فضول خرچ لوگوں کو قرآن نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ ایسے لوگ اس کی باتیں٘ سنتے ہیں، مانتے ہیں اور ان پر ہی عمل کرتے ہیں۔ شیاطین ان کے سامنے برائیاں اچھے رنگ میں پیش کرتے ہیں، ان پر وہ آسان ہو جاتی ہیں اور یہ پوری مشغولیت کے ساتھ ان میں پھنس جاتے ہیں۔ دن بدن اپنی بدکاری میں بڑھتے جاتے ہیں، جہالت اور نادانی کی حد کر دیتے ہیں۔ جیسے آیت میں ہے أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا مریم ۱۹:۸۳ ⧉ ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ “نہ شیطان ان کے بہکانے میں کوتاہی برتتے ہیں، نہ یہ برائیاں کرنے میں کمی کرتے ہیں۔ یہ ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں اور وہ ان وسوسوں میں پھنستے رہتے ہیں، یہ انہیں بھڑکاتے رہتے ہیں اور گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں، وہ برے عمل کئے جاتے ہیں اور برائیوں پر مداومت اور لذت کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔