سنن کی ایک اور حدیث میں ہے: سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو، وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں، انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ [سنن ترمذي:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبرانی میں مروی ہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کو خریدی تھی , نمازوں کے وقت اسے پہن لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آدھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام طب کو اور حکمت کو جمع کر دیا . ارشاد ہے: کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ” جو چاہے کھا، جو چاہے پی لیکن دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔“ ایک مرفوع حدیث میں ہے: کھاؤ پیو، پہنو اوڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ [مسند احمد:181/2:حسن] آپ فرماتے ہیں: کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو۔ [سنن نسائی:2560، قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں: انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے، کافی ہیں۔ اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کر لے۔ ایک کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے، ایک سانس کے لئے۔ [سنن ترمذي:2380، قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں: یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے، کھائے۔ [سنن ابن ماجه:3352، قال الشيخ الألباني:موضوع] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے۔ اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا۔ یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کر لیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے۔ اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو، نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو۔ ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔