” اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ “ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ” ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ” سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے “۔ جیسے فرمان ہے وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ الانسان ۷۶:۳۰ ⧉ یعنی ” تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں “۔ پھر فرمایا ” اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے “۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ ۔ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر⧉ کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ فالْحَمْدُ لِلَّـه