جیسے اور جگہ ہے يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ الرحمٰن ۵۵:۳۳ ⧉ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔
اور جگہ ہے وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ ہود ۱۱:۵۷ ⧉ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔“ ” سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ [اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے]۔ آمین