وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ
الحشر ۵۹:۱۰ ⧉ اور سورۃ الانفال⧉ میں بھی ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ الانفال ۸:۷۵ ⧉ الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری وَالْاَنٰصَارِ کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
خصوصاً وہ صحابی جو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا سردار ہے پیغمبر ﷺ کا جانشین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد اسی کا درجہ ہے جس کو افضل صحابہ رضی اللہ عنہ کا درجہ حاصل ہے یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما اور خلیفہ اعظم ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما یہ رافضیوں کا بامراد فرقہ افضل صحابی سے دشمنی رکھتا ہے انہیں گالی گلوچ کرتا ہے۔ ایسی حرکت سے اللہ کی پناہ۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول ﷺ نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔