قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ التوبہ ۹:۱۱۰ ⧉ یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔