پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اگر یہ رشتے دار اور اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔
ایسے بدکاروں کو اللہ تعالیٰ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ” یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے ہرچیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہو گا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اب اے عمر رضی اللہ عنہ! [ تو مومن ہو گیا ] صحیح بخاری۔ [صحیح بخاری:6632] صحیح حدیث میں آپ ﷺ کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ [صحیح بخاری:15] مسند امام احمد اور ابوداؤد میں ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں: ” جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ڈال دے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ [سنن ابوداود:3462،قال الشيخ الألباني:صحیح]