نبی کریم رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔“ [صحیح مسلم:2889] فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ [مسند احمد:366،367/5:صحیح]
فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ [مسند احمد:103/4:صحیح] رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔“ [مسند احمد:4/6:صحیح] سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ” اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔“ میں نے کہا: ” میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔“ میں نے کہا: ” سچ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ” یہ تو سچ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟
میں نے کہا: ” دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ” کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔“ اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ” رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق ﷺ کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق ﷺ کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔“ [مسند احمد:378/4:حسن] نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ” دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” رسول اللہ ﷺ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔“ [صحیح مسلم:2907]